صحیح بخاری پر مستشرقین کے اعتراضات اور ان کا تحقیقی جائزہ
مستشرقین نے اسلامی علوم بالخصوص حدیث کے ذخیرے پر مختلف نوعیت کے اعتراضات اٹھائے ہیں، جن میں صحیح بخاری کو خاص طور پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ان اعتراضات کا بنیادی مقصد حدیث کی حجیت کو مشکوک بنانا اور اسلامی تشریعی نظام کو کمزور دکھانا رہا ہے۔ تاہم جب ان اعتراضات کا علمی، تاریخی اور اصولی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ مستشرقین کے بیشتر اعتراضات یا تو لاعلمی پر مبنی ہیں یا دانستہ طور پر علمی منہج سے انحراف کا نتیجہ ہیں۔
پہلا اعتراض: صحیح بخاری کی تدوین میں تاخیر
مستشرقین کا سب سے معروف اعتراض یہ ہے کہ امام بخاریؒ نے صحیح بخاری کو تیسری صدی ہجری میں مرتب کیا، لہٰذا احادیث نبی ﷺ کے دور سے بہت بعد میں لکھی گئیں اور قابلِ اعتماد نہیں رہتیں۔ اس اعتراض کی بنیاد اس غلط مفروضے پر ہے کہ حدیث کی تدوین امام بخاریؒ کے دور میں پہلی بار ہوئی، حالانکہ تاریخی شواہد اس کے بالکل برعکس ہیں۔ عہدِ نبوی میں کتابتِ حدیث موجود تھی، صحابہ کے تحریری صحیفے رائج تھے اور تابعین کے دور میں یہ سلسلہ مزید مضبوط ہو چکا تھا۔ امام بخاریؒ نے نئی احادیث ایجاد نہیں کیں بلکہ پہلے سے موجود محفوظ علمی سرمایہ کو انتہائی سخت معیار پر پرکھ کر جمع کیا۔
دوسرا اعتراض: زبانی روایت پر حد سے زیادہ انحصار
بعض مستشرقین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ صحیح بخاری بنیادی طور پر زبانی روایت پر مشتمل ہے، جو وقت کے ساتھ تحریف کا شکار ہو سکتی ہے۔ یہ اعتراض اس حقیقت کو نظر انداز کرتا ہے کہ اسلامی روایت میں زبانی اور تحریری دونوں ذرائع بیک وقت استعمال ہوتے رہے ہیں۔ امام بخاریؒ نے جن اساتذہ سے حدیث لی، ان کے پاس تحریری مجموعے موجود تھے۔ مصنف عبدالرزاق، مصنف ابن ابی شیبہ، موطا امام مالک اور مسند احمد جیسی کتب امام بخاریؒ سے پہلے تحریر ہو چکی تھیں۔ اس طرح صحیح بخاری زبانی روایت نہیں بلکہ تحریری روایت کے تسلسل کی نمائندہ ہے۔
تیسرا اعتراض: اسناد کا نظام غیر سائنسی ہے
مستشرقین اسناد کے نظام کو غیر سائنسی قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ راویوں پر اعتماد محض شخصی ساکھ پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علمِ حدیث میں جرح و تعدیل کا جو دقیق نظام وضع کیا گیا، وہ کسی بھی تاریخی تنقید سے زیادہ سخت ہے۔ راوی کی دیانت، حافظہ، کردار، ملاقات اور ہم عصریت سب کی باریک بینی سے جانچ کی جاتی تھی۔ جدید تاریخ نویسی میں ایسا جامع نظام کہیں اور نہیں ملتا۔ اسناد کا نظام دراصل اسلامی علمی روایت کی سب سے بڑی طاقت ہے، نہ کہ کمزوری۔
چوتھا اعتراض: صحیح بخاری میں بعض عقلی طور پر مشکل احادیث
کچھ مستشرقین صحیح بخاری میں موجود بعض احادیث کو عقل کے خلاف قرار دے کر پوری کتاب کو مشکوک ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اعتراض اس غلط فہمی پر مبنی ہے کہ عقل ہی علم کا واحد معیار ہے۔ اسلام میں عقل کو وحی کے تابع رکھا گیا ہے، نہ کہ وحی کو عقل کے تابع۔ مزید یہ کہ بہت سی احادیث کو ان کے سیاق و سباق، لغوی معنی اور عربی اسلوب کو سمجھے بغیر رد کر دیا جاتا ہے، جو علمی انصاف کے خلاف ہے۔
پانچواں اعتراض: سیاسی اثرات
مستشرقین یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ احادیث سیاسی حالات کے زیرِ اثر گھڑی گئیں اور صحیح بخاری بھی اس سے محفوظ نہیں۔ یہ دعویٰ تاریخی شواہد کے خلاف ہے، کیونکہ امام بخاریؒ نے متعدد حکمرانوں کی ناراضی مول لی مگر حدیث کے معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ان کی زندگی کا طرزِ عمل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ وہ سیاسی دباؤ سے بالاتر ہو کر صرف علمی اصولوں پر کاربند رہے۔
مستشرقین کے منہج کی بنیادی کمزوری
مستشرقین کی تحقیق کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ اسلامی مصادر کو اسلامی اصولوں کے بجائے مغربی تاریخی معیار پر پرکھتے ہیں۔ وہ اسناد، اجماعِ امت اور عملی تواتر جیسے اصولوں کو نظر انداز کر کے محض ظنی قیاسات پر انحصار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ داخلی اسلامی مصادر کے بجائے ثانوی اور متعصب حوالوں پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔
مسلم علماء کا علمی ردِّ عمل
مسلم علماء نے مستشرقین کے اعتراضات کا مدلل اور تحقیقی جواب دیا ہے۔ علامہ مصطفیٰ سباعی، ڈاکٹر محمد حمید اللہ، شیخ محمد عوامہ اور دیگر معاصر محققین نے تاریخی شواہد کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ حدیث کی تدوین ایک مسلسل، مربوط اور محفوظ عمل تھا۔ ان تحقیقات نے مستشرقین کے بیشتر اعتراضات کو علمی طور پر بے وزن کر دیا ہے۔
صحیح بخاری کی قبولِ عام
صحیح بخاری کی سب سے بڑی دلیل اس کی صدیوں پر محیط قبولِ عام ہے۔ مختلف مسالک، فقہی مکاتب فکر اور علمی مدارس نے اسے بلا اختلاف سب سے معتبر کتاب تسلیم کیا ہے۔ اگر اس میں واقعی وہ کمزوریاں ہوتیں جن کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو امت کا یہ ہمہ گیر اعتماد ممکن نہ ہوتا۔
اختتامی کلمات
مستشرقین کے اعتراضات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ اعتراضات زیادہ تر قیاس آرائی، منہجی غلطیوں اور اسلامی علوم سے ناواقفیت کا نتیجہ ہیں۔ صحیح بخاری نہ صرف حدیث کا مستند ترین مجموعہ ہے بلکہ یہ اسلامی علمی روایت کی عظمت، دیانت اور تحقیق کا زندہ ثبوت بھی ہے۔ امام بخاریؒ کی کتاب آج بھی اس بات کی گواہ ہے کہ امتِ مسلمہ نے اپنے نبی ﷺ کی سنت کو غیر معمولی احتیاط، علمی بصیرت اور اخلاص کے ساتھ محفوظ کیا۔
