فتنۂ انکارِ حدیث: ایک فکری گمراہی اور اس کے اثرات
اسلام ایک مکمل دین ہے جس کی بنیاد دو بنیادی ماخذ پر قائم ہے: قرآنِ مجید اور سنتِ رسول ﷺ۔ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جبکہ حدیث نبی کریم ﷺ کے اقوال، افعال اور تقریرات کا مجموعہ ہے۔ تاریخِ اسلام میں مختلف فکری فتنے پیدا ہوتے رہے ہیں، جن میں ایک نہایت خطرناک فتنہ انکارِ حدیث کا ہے۔ یہ فتنہ بظاہر قرآن سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے، مگر درحقیقت قرآن ہی کی صحیح تعلیمات سے انحراف کا سبب بنتا ہے۔
انکارِ حدیث کا مفہوم
انکارِ حدیث سے مراد یہ نظریہ ہے کہ حدیثِ نبوی ﷺ کو شرعی حجت نہ مانا جائے اور دین کے لیے صرف قرآن کو کافی سمجھا جائے۔ اس فکر کے حامل افراد سنتِ نبوی ﷺ کی تشریعی حیثیت کو تسلیم نہیں کرتے اور اسے محض تاریخی روایات قرار دیتے ہیں۔ یہی نظریہ رفتہ رفتہ دین کی عملی شکل کو ختم کر دیتا ہے۔
فتنۂ انکارِ حدیث کی تاریخی جھلک
ابتدائی دورِ اسلام میں انکارِ حدیث منظم صورت میں موجود نہیں تھا، کیونکہ صحابۂ کرامؓ براہِ راست نبی ﷺ کی صحبت سے مستفید تھے۔ تاہم بعد کے ادوار میں، خاص طور پر استعمار اور مغربی فکری یلغار کے نتیجے میں، اس فتنے نے ایک منظم شکل اختیار کی۔ برصغیر میں یہ فکر انیسویں صدی میں نمایاں ہوئی اور “قرآن کافی ہے” جیسے نعرے متعارف کرائے گئے۔
قرآن سے انکارِ حدیث کا رد
قرآنِ مجید خود حدیث کی حجیت پر دلیل ہے۔ متعدد آیات میں نبی کریم ﷺ کی اطاعت کو لازم قرار دیا گیا ہے، جیسے:
“رسول تمہیں جو دیں اسے لے لو اور جس سے روکیں رک جاؤ”
“اللہ اور رسول کی اطاعت کرو”
اگر حدیث حجت نہ ہو تو رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم بے معنی ہو جاتا ہے۔ اس طرح انکارِ حدیث دراصل قرآن ہی کی آیات کا عملی انکار بن جاتا ہے۔
دین کی عملی شکل کا خاتمہ
فتنۂ انکارِ حدیث کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ دین کی عملی صورت ختم ہو جاتی ہے۔
مثال کے طور پر:
- قرآن میں نماز کا حکم ہے، مگر طریقہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے
- زکوٰۃ کا نصاب اور شرح حدیث سے واضح ہوتی ہے
- حج کے مناسک سنت کے بغیر نامکمل ہیں
اگر حدیث کو چھوڑ دیا جائے تو عبادات محض مبہم تصورات بن کر رہ جاتی ہیں۔
امت کا اجماعی موقف
امتِ مسلمہ کا آغاز سے اب تک اس بات پر اجماع ہے کہ حدیث شریعت کا مستقل ماخذ ہے۔ صحابۂ کرامؓ، تابعین، ائمۂ فقہ اور محدثین سب حدیث کو حجت مانتے رہے ہیں۔ چودہ سو سالہ اجماعی موقف کے مقابلے میں انکارِ حدیث ایک شاذ اور گمراہ فکر ہے۔
انکارِ حدیث اور علمی بددیانتی
انکارِ حدیث کے حامی اکثر حدیث کے تحفظ اور تدوین کے بارے میں شکوک پیدا کرتے ہیں، حالانکہ تاریخِ حدیث، اصولِ حدیث اور علمُ الجرح والتعدیل اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ حدیث نہایت مضبوط تحقیقی بنیادوں پر محفوظ ہے۔ دنیا کے کسی بھی تاریخی علم میں ایسا جامع تحقیقی نظام موجود نہیں۔
فتنۂ انکارِ حدیث کے نتائج
اس فتنے کے نتیجے میں:
- دینی احکام میں انتشار پیدا ہوتا ہے
- ہر شخص قرآن کی من مانی تشریح کرنے لگتا ہے
- امت وحدت سے محروم ہو جاتی ہے
- سنتِ نبوی ﷺ سے عملی تعلق ختم ہو جاتا ہے
یہ سب عوامل دین کو ایک نظریاتی کتاب تک محدود کر دیتے ہیں، جو اسلام کی اصل روح کے خلاف ہے۔
اہلِ علم کی ذمہ داری
علماء اور طلبۂ علم پر لازم ہے کہ وہ فتنۂ انکارِ حدیث کا علمی اور فکری رد کریں۔ عوام کو حدیث کی اہمیت، تدوینِ حدیث اور تحقیقِ حدیث کے مضبوط نظام سے آگاہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، تاکہ نئی نسل گمراہی سے محفوظ رہے۔
عصرِ حاضر میں فتنۂ انکارِ حدیث
ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل نیٹ ورکس کے ذریعے یہ فتنہ نئے انداز میں پھیلایا جا رہا ہے۔ اس لیے مستند علم، صحیح مطالعہ اور اہلِ علم سے رہنمائی پہلے سے زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔
نتیجہ
فتنۂ انکارِ حدیث دراصل دینِ اسلام کی بنیادوں پر حملہ ہے۔ قرآن اور حدیث ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ لازم و ملزوم ہیں۔ حدیث کے بغیر قرآن کی صحیح فہم ممکن نہیں۔ اس لیے ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ سنتِ نبوی ﷺ کو دین کا لازمی حصہ سمجھے، اس کا احترام کرے اور اس پر عمل کرے۔ یہی راستہ دین کی حفاظت اور امت کی فلاح کا ضامن ہے۔
