عطاروں کے بازار میں بے ہوش آدمی -- حکایت مولانا روم

Al Shifa
0

اس حکایت کا سبق یہ ہے کہ ہر انسان حقیقت کی خوشبو برداشت کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ عطاروں کے بازار میں خوشبوئیں عام لوگوں کے لیے باعثِ لطف ہوتی ہیں، مگر بے ہوش آدمی ان کی شدت سے گر پڑتا ہے، کیونکہ وہ اندر سے کمزور ہوتا ہے۔ مولانا روم اس واقعے کے ذریعے بتاتے ہیں کہ روحانی سچ بھی ایسی ہی خوشبو ہے؛ جس کا دل بیمار یا نفس آلودہ ہو، وہ حق کی بات سن کر گھبرا جاتا ہے، تکلیف محسوس کرتا ہے یا انکار پر اتر آتا ہے۔ اس لیے اصل علاج خوشبو سے بھاگنا نہیں بلکہ خود کو مضبوط بنانا ہے—کیونکہ صاف دل کے لیے حق کی خوشبو زندگی بخشتی ہے، اور بیمار دل کے لیے وہی اذیت بن جاتی ہے۔ مکمل واقعہ ویڈیو میں موجود ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔👇۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !