اصل حسن اور کمال ظاہری نقش و نگار میں نہیں بلکہ باطن کی صفائی میں ہے۔ مولانا روم ہمیں سکھاتے ہیں کہ جب انسان اپنے اندر کی گرد—غرور، حسد اور نفرت—صاف کر لیتا ہے تو وہ ہر خوبصورتی کو بہتر انداز میں منعکس کرنے لگتا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ علم اور فن تبھی کامل ہوتے ہیں جب دل شفاف ہو، کیونکہ صاف دل ہی سچ اور حسن کا اصل آئینہ ہوتا ہے۔ مکمل واقعہ ویڈیو میں موجود ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔👇۔