حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ عنہ کا بینک اکاونٹ

Al Shifa
0

حضرت عثمان غنیؓ کی سخاوت

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ اسلام کے تیسرے خلیفۂ راشد اور رسولِ اکرم ﷺ کے جلیل القدر صحابی تھے۔ آپؓ کو غنی اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو مال بھی عطا فرمایا اور دل کی ایسی وسعت بھی کہ آپؓ اپنا مال اللہ کی راہ میں بے دریغ خرچ کرتے تھے۔ آپؓ کی سخاوت تاریخِ اسلام کا روشن باب ہے۔

حضرت عثمانؓ کی سخاوت کی سب سے عظیم مثال کنواں رومہ ہے۔ مدینہ منورہ میں پانی کی شدید قلت تھی اور یہ کنواں ایک یہودی کے قبضے میں تھا جو پانی مہنگے داموں فروخت کرتا تھا۔ حضرت عثمانؓ نے اپنی ذاتی دولت سے یہ کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا تاکہ ہر شخص بلا معاوضہ پانی حاصل کر سکے۔ یہ عمل آپؓ کی بے لوث سخاوت اور انسان دوستی کا عظیم نمونہ ہے۔

اسی طرح غزوۂ تبوک کے موقع پر جب مسلمانوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا تھا، حضرت عثمانؓ نے سینکڑوں اونٹ، گھوڑے اور کثیر مال اللہ کی راہ میں پیش کیا۔ رسول اللہ ﷺ اس سخاوت سے بے حد خوش ہوئے اور فرمایا کہ آج کے بعد عثمانؓ جو بھی عمل کریں گے وہ ان کے لیے باعثِ نقصان نہ ہوگا۔ یہ آپؓ کی سخاوت کی عظمت کا واضح ثبوت ہے۔

حضرت عثمانؓ نہ صرف بڑے مواقع پر بلکہ روزمرہ زندگی میں بھی غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے تھے۔ آپؓ کا دل نرمی، رحم اور ایثار سے بھرا ہوا تھا۔ آپؓ مال کو اپنا نہیں بلکہ اللہ کی امانت سمجھتے تھے اور اسے اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے تھے۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ حضرت عثمان غنیؓ کی سخاوت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل دولت مال میں نہیں بلکہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے میں ہے۔ جو شخص اللہ پر بھروسا کرتے ہوئے خرچ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے مال میں برکت عطا فرماتا ہے اور اسے دنیا و آخرت میں سربلند کرتا ہے۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !