سرنگی — حکایت اور سبق (مولانا روم)

Al Shifa
0

سرنگی — حکایت اور سبق (مولانا روم)

مولانا روم سرنگی کو مثال بنا کر سمجھاتے ہیں کہ یہ ساز تب تک خاموش لکڑی ہے جب تک اس کے تار کھینچے نہ جائیں، زخمی نہ ہوں۔ جب اس پر چوٹ پڑتی ہے، تبھی اس میں سے درد بھری، دل کو چھو لینے والی آواز نکلتی ہے۔
سبق یہ ہے کہ انسان کی آزمائشیں ہی اس کی اصل آواز کو بیدار کرتی ہیں۔ دکھ، جدائی اور صبر کے بغیر نہ دل پکتا ہے نہ روح نکھرتی ہے۔ مولانا روم ہمیں سکھاتے ہیں کہ جو تکلیف ہمیں توڑتی نہیں، وہ ہمیں سُر عطا کرتی ہے—اور یہی سُر انسان کو خدا کے قریب لے جاتا ہے۔
مکمل واقعہ ویڈیو میں موجود ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔👇۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !