دستک — حکایت اور سبق (مولانا روم کے انداز میں)
مولانا روم فرماتے ہیں کہ جب کوئی دروازے پر بار بار دستک دیتا ہے تو دروازہ آخرکار کھل ہی جاتا ہے۔ اگر دروازہ بند ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اندر کوئی نہیں، بلکہ یہ کہ صبر اور استقلال ابھی پورے نہیں ہوئے۔
سبق یہ ہے کہ سچی طلب کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ جو شخص دعا، کوشش اور یقین کے ساتھ مسلسل دستک دیتا ہے، اس کے لیے راستے خود بخود کھلنے لگتے ہیں۔ خاموشی کو انکار نہ سمجھو—یہ تیاری کا وقت ہے، کیونکہ دروازہ اسی کے لیے کھلتا ہے جو ہمت سے دستک دیتا رہتا ہے۔
مکمل واقعہ ویڈیو میں موجود ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔👇۔