علم: انسان کی رہنمائی اور ترقی کی بنیاد

Al Shifa
0

علم: انسان کی رہنمائی اور ترقی کی بنیاد


علم انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر شعور، بصیرت اور کامیابی کی روشنی عطا کرتا ہے۔ یہی وہ قوت ہے جو انسان کو باقی مخلوقات پر فضیلت دیتی ہے۔ اسلام نے علم کو غیر معمولی اہمیت دی اور اسے ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض قرار دیا۔ علم نہ صرف انسان کے فکر و عمل کو درست کرتا ہے بلکہ فرد، معاشرے اور پوری انسانیت کی ترقی کا ذریعہ بنتا ہے۔



علم کا مفہوم


لفظ علم کے لغوی معنی جاننے اور پہچاننے کے ہیں۔ اصطلاح میں علم اس شعور کا نام ہے جس کے ذریعے انسان حق و باطل، درست و غلط اور نفع و نقصان میں تمیز کرتا ہے۔ اسلام میں علم محض معلومات کا نام نہیں بلکہ وہ معرفت ہے جو انسان کو اللہ تعالیٰ کے قریب لے جائے اور اس کے کردار کو سنوار دے۔

قرآنِ مجید میں علم کی اہمیت


قرآنِ مجید کی پہلی وحی ہی علم کے بارے میں نازل ہوئی:
“پڑھو اپنے رب کے نام سے جس نے پیدا کیا”
یہ آیت اس بات کی واضح دلیل ہے کہ اسلام کی بنیاد علم پر رکھی گئی ہے۔ قرآن میں بار بار اہلِ علم کی فضیلت بیان کی گئی ہے اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر نہیں ہو سکتے۔

سنتِ نبوی ﷺ میں علم کا مقام


نبی کریم ﷺ نے علم کو بڑی فضیلت عطا فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
“علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے”
آپ ﷺ نے علماء کو انبیاء کا وارث قرار دیا، کیونکہ وہ علم کے ذریعے لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ یہ حدیث اس بات کا ثبوت ہے کہ علم دین کی بقا اور امت کی اصلاح کا بنیادی ذریعہ ہے۔

علم کی اقسام


اسلامی تعلیمات کے مطابق علم کی دو بنیادی اقسام ہیں:

1. علمِ دین – جو انسان کو عقیدہ، عبادات اور اخلاق سکھاتا ہے۔
2. علمِ دنیا – جو انسان کو دنیاوی معاملات، سائنس، طب، تجارت اور دیگر شعبوں میں مہارت دیتا ہے۔

اسلام دونوں علوم میں توازن سکھاتا ہے تاکہ انسان دنیا میں بھی کامیاب ہو اور آخرت میں بھی سرخرو ہو۔

علم اور عمل کا تعلق


اسلام میں علم کا اصل مقصد عمل ہے۔ وہ علم جو عمل سے خالی ہو، بے فائدہ ہے۔ قرآن و حدیث میں ایسے علم سے پناہ مانگی گئی ہے جو انسان کے کردار کو نہ بدلے۔ حقیقی عالم وہی ہے جس کا علم اس کے اخلاق، معاملات اور رویّوں میں نظر آئے۔

علم اور اخلاق


علم انسان میں عاجزی، برداشت اور حکمت پیدا کرتا ہے۔ جتنا زیادہ انسان سیکھتا ہے، اتنا ہی اسے اپنی کم علمی کا احساس ہوتا ہے۔ علم تکبر کے لیے نہیں بلکہ خدمتِ خلق اور اصلاحِ معاشرہ کے لیے ہونا چاہیے۔

علم اور معاشرتی ترقی


تعلیم یافتہ معاشرہ ہی ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ علم معاشی استحکام، سائنسی ترقی اور سماجی انصاف کا ذریعہ بنتا ہے۔ جہالت غربت، ظلم اور پسماندگی کو جنم دیتی ہے، جبکہ علم قوموں کو عروج بخشتا ہے۔

عورت اور علم


اسلام نے عورت کو بھی علم حاصل کرنے کا مکمل حق دیا ہے۔ ابتدائی دورِ اسلام میں خواتین علمِ حدیث، فقہ اور دیگر علوم میں نمایاں مقام رکھتی تھیں۔ ایک تعلیم یافتہ ماں پوری نسل کی تربیت کرتی ہے، اس لیے عورت کا تعلیم یافتہ ہونا معاشرے کے لیے ناگزیر ہے۔

علم اور عصرِ حاضر


آج کے دور میں علم کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ٹیکنالوجی، میڈیا اور جدید علوم نے دنیا کو بدل دیا ہے۔ ایسے میں مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ دینی علم کے ساتھ جدید علوم بھی حاصل کریں، تاکہ وہ دنیا میں مؤثر کردار ادا کر سکیں اور دین کی صحیح نمائندگی کر سکیں۔

علم کے آداب


اسلام نے علم کے کچھ آداب بھی سکھائے ہیں، جیسے:

  • اخلاصِ نیت
  • استاد کا احترام
  • علم پر عمل
  • علم کو عام کرنا

یہ آداب علم کو بابرکت بناتے ہیں۔

حاصل کلام 


علم اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، جو انسان کو شعور، ہدایت اور کامیابی عطا کرتی ہے۔ اسلام نے علم کو زندگی کا مقصد اور ترقی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اگر ہم علم کو اخلاص کے ساتھ حاصل کریں، اس پر عمل کریں اور اسے معاشرے کی بھلائی کے لیے استعمال کریں تو ایک باکردار، باعلم اور ترقی یافتہ معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔ حقیقی کامیابی علم اور عمل کے امتزاج میں ہے۔

 

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !