دہشت گردی اور اسلام

Al Shifa
0

دہشت گردی اور اسلام



دہشت گردی عصرِ حاضر کا ایک سنگین عالمی مسئلہ ہے جس نے دنیا کے امن و سکون کو تہہ و بالا کر کے رکھ دیا ہے۔ بدقسمتی سے اس ناسور کو اکثر اسلام کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے، حالانکہ اسلام ایک ایسا دین ہے جو امن، سلامتی، عدل اور رحم کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید اور سنتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ اسلام میں دہشت گردی، تشدد اور بے گناہوں کے قتل کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ مضمون قرآن و حدیث کی روشنی میں اس غلط فہمی کا ازالہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔

دہشت گردی کا مفہوم


دہشت گردی سے مراد وہ پرتشدد سرگرمیاں ہیں جن کے ذریعے عام شہریوں میں خوف و ہراس پھیلایا جائے، بے گناہ انسانوں کو نشانہ بنایا جائے اور معاشرے کو عدم استحکام سے دوچار کیا جائے۔ یہ عمل کسی بھی صورت میں قابلِ جواز نہیں، چاہے اسے کسی بھی مذہب یا نظریے کے نام پر انجام دیا جائے۔ اسلام میں خوف پھیلانا، فساد برپا کرنا اور انسانی جانوں کو نقصان پہنچانا سنگین جرم شمار ہوتا ہے۔

اسلام کا بنیادی پیغامِ امن


اسلام کا لفظ ہی “سلام” سے نکلا ہے جس کا مطلب امن اور سلامتی ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
“اور اللہ سلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے” (سورۃ یونس: 25)
یہ آیت اس بات کا واضح اعلان ہے کہ اسلام انسانیت کو امن کی راہ دکھاتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
“مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں” (صحیح بخاری)
یہ حدیث اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام کسی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا۔

انسانی جان کی حرمت قرآن کی نظر میں


قرآنِ مجید میں انسانی جان کی عظمت کو انتہائی واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“جس نے کسی ایک جان کو ناحق قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کر دیا” (سورۃ المائدہ: 32)
یہ آیت دہشت گردی کے ہر عمل کو سختی سے رد کرتی ہے کیونکہ دہشت گردی میں سب سے زیادہ نشانہ بے گناہ انسان بنتے ہیں۔ اسلام میں ناحق قتل کو کبیرہ گناہ قرار دیا گیا ہے اور اس کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

نبی ﷺ کی تعلیمات اور عملی نمونہ


نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی امن، صبر اور برداشت کا عملی نمونہ ہے۔ مکہ میں آپ ﷺ کو شدید تکالیف دی گئیں، مگر آپ ﷺ نے کبھی تشدد کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ فتح مکہ کے موقع پر، جب آپ ﷺ کے پاس مکمل اقتدار تھا، تب بھی آپ ﷺ نے عام معافی کا اعلان فرمایا۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اسلام انتقام نہیں بلکہ رحمت کا دین ہے۔

جنگ کے اصول اور اسلام


اسلام جنگ کو آخری حل کے طور پر قبول کرتا ہے اور اس کے بھی سخت اخلاقی اصول مقرر کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
“عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرو” (سنن ابوداؤد)
اسی طرح آپ ﷺ نے غیر جنگجو افراد، عبادت گاہوں اور فصلوں کو نقصان پہنچانے سے منع فرمایا۔ دہشت گردی ان تمام اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے، اس لیے اسے کسی صورت اسلامی عمل نہیں کہا جا سکتا۔

فساد فی الارض اور قرآن


قرآنِ مجید میں فساد پھیلانے والوں کے بارے میں سخت وعید آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
“اور زمین میں فساد نہ پھیلاؤ، بے شک اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا” (سورۃ القصص: 77)
دہشت گردی سراسر فساد فی الارض ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں قتل و غارت، خوف اور تباہی پھیلتی ہے۔ اس بنا پر دہشت گردی اسلام کی تعلیمات کے بالکل منافی ہے۔

جہاد کا اصل تصور


اسلام میں جہاد کا مطلب محض جنگ نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے جدوجہد کرنا ہے، جس میں نفس کی اصلاح، ظلم کے خلاف آواز اٹھانا اور حق کی حمایت شامل ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا ہے” (سنن نسائی)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ جہاد کا اصل مقصد اصلاح ہے نہ کہ فساد۔ خودکش حملے اور دہشت گردانہ کارروائیاں جہاد نہیں بلکہ حرام افعال ہیں۔

دہشت گردی کے نام پر اسلام کا غلط استعمال


کچھ انتہاپسند گروہ اپنے مفادات کے لیے قرآن و حدیث کی غلط تشریح کرتے ہیں اور اپنے جرائم کو اسلام کے نام پر جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے افراد اسلام کے نمائندے نہیں بلکہ اس کے پیغام کو بدنام کرنے والے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جو ہم میں سے نہیں، وہ ہم میں سے نہیں” (صحیح مسلم)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ جو شخص ظلم و قتل کا راستہ اختیار کرے وہ اسلامی تعلیمات سے خارج ہے۔

مسلمانوں کی ذمہ داری


آج مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے کردار، اخلاق اور عمل سے دنیا کو اسلام کا اصل پیغام دکھائیں۔ قرآنِ مجید میں فرمایا گیا:
“بھلائی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو” (سورۃ المائدہ: 2)
تعلیم، مکالمہ اور پرامن جدوجہد کے ذریعے دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہی اسلامی طریقہ ہے۔

حاصل کلام 


قرآنِ مجید اور احادیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو امن، عدل اور رحمت کی تعلیم دیتا ہے۔ دہشت گردی اسلام کی بدترین توہین ہے اور ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اس کی نہ صرف مذمت کرے بلکہ عملی طور پر امن کے قیام کے لیے کردار ادا کرے۔ اسلام کا پیغام خوف نہیں بلکہ سلامتی ہے، اور یہی پیغام انسانیت کی نجات کا راستہ ہے۔



 

ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !