سیرتِ رسولِ اکرم ﷺ — جامع بیان
نسب اور ولادت
نبی کریم ﷺ کا نام محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب ہے۔ آپ ﷺ قبیلہ قریش کے معزز خاندان بنو ہاشم سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ ﷺ کی ولادت عام الفیل (570ء) میں مکہ مکرمہ میں ہوئی۔ والد حضرت عبداللہ آپ ﷺ کی ولادت سے پہلے اور والدہ حضرت آمنہ آپ ﷺ کے بچپن میں وفات پا گئیں، اس طرح آپ ﷺ یتیم ہو گئے۔
بچپن اور جوانی
آپ ﷺ کی پرورش دادا حضرت عبدالمطلب اور پھر چچا حضرت ابو طالب نے کی۔ بچپن ہی سے آپ ﷺ سچائی، امانت اور پاکیزہ کردار کے باعث الصادق اور الامین کہلائے۔ تجارت میں دیانت داری کی مثال قائم کی۔
نکاح
25 سال کی عمر میں آپ ﷺ کا نکاح حضرت خدیجہؓ سے ہوا، جو نہایت باوقار اور سمجھدار خاتون تھیں۔ انہوں نے ہر مرحلے پر آپ ﷺ کا بھرپور ساتھ دیا۔
بعثت
40 سال کی عمر میں، غارِ حرا میں عبادت کے دوران آپ ﷺ پر پہلی وحی نازل ہوئی:
"اقرأ باسم ربك الذي خلق"
یہی لمحہ نبوت کے آغاز کا تھا۔ آپ ﷺ نے توحید، اخلاق، عدل اور اصلاحِ معاشرہ کی دعوت دی۔
مکی دور
مکہ میں تیرہ سال تک شدید مخالفت، ظلم اور اذیتوں کے باوجود آپ ﷺ نے صبر، حکمت اور استقامت سے دعوت کا کام جاری رکھا۔ صحابہؓ نے بڑی قربانیاں دیں۔
ہجرت
مکہ کے حالات سخت ہونے پر اللہ کے حکم سے آپ ﷺ نے 622ء میں مدینہ منورہ ہجرت فرمائی، جو اسلامی تاریخ کا اہم ترین موڑ ہے اور اسی سے ہجری تقویم کا آغاز ہوا۔
مدنی دور
مدینہ میں آپ ﷺ نے اسلامی ریاست کی بنیاد رکھی، میثاقِ مدینہ کے ذریعے مختلف مذاہب اور قبائل کے حقوق طے کیے۔ غزوات پیش آئے مگر ہر موقع پر عدل، رحمت اور اخلاق کی اعلیٰ مثال قائم کی۔
فتح مکہ
8 ہجری میں مکہ فتح ہوا۔ آپ ﷺ نے اپنے بدترین دشمنوں کو بھی معاف فرما کر تاریخ میں بے مثال عفو و درگزر کی مثال قائم کی۔
اخلاق و کردار
آپ ﷺ سراپا رحمت، نرم دل، انصاف پسند اور انسانیت کے محسن تھے۔ غلاموں، عورتوں، بچوں اور کمزوروں کے حقوق کی حفاظت فرمائی۔
قرآن نے آپ ﷺ کے اخلاق کو یوں بیان کیا:
"وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ"
وصال
آپ ﷺ کا وصال 12 ربیع الاول 11 ہجری کو مدینہ منورہ میں ہوا۔ آپ ﷺ نے انسانیت کو ایمان، اخلاق اور عدل کا ایسا نظام عطا کیا جو قیامت تک رہنمائی کرتا رہے گا۔
۔