قبر ـــ حکایت شیخ سعدی شیرازی

Al Shifa
0

 قبر ـــ حکایت شیخ سعدی شیرازی

قبر ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جس انجام سے کوئی بادشاہ بچ سکا، نہ فقیر۔ وہاں نہ نام کام آتا ہے، نہ نسب، نہ دنیا کی تعریف۔ انسان تنہا اترتا ہے، اپنے اعمال کے ساتھ۔
سبق یہ ہے کہ زندگی کی اصل تیاری قبر کے لیے ہے، نہ کہ دکھاوے کے لیے۔ جو دل زندہ رکھے، حق نہ دبائے، اور مخلوق پر رحم کرے، اس کی قبر تنگ نہیں ہوتی۔ صوفیا کہتے ہیں: قبر انجام نہیں، آئینہ ہے—وہی دکھاتی ہے جو ہم نے زندگی میں جمع کیا ہوتا ہے۔انسان کی عظمت بڑے اعمال سے نہیں بلکہ چھوٹی مخلوق کے حق کا خیال رکھنے سے ظاہر ہوتی ہے۔ شیخ سعدی ہمیں سکھاتے ہیں کہ رحم صرف انسانوں تک محدود نہیں، بلکہ ہر ذی روح تک پھیلتا ہے۔ جو کمزور کی تکلیف محسوس کر لے، وہی حقیقت میں بڑا انسان ہے—کیونکہ اللہ کی رحمت اسی پر نازل ہوتی ہے جو اس کی مخلوق پر مہربان ہو۔
مکمل واقعہ ویڈیو میں موجود ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔👇۔


ایک تبصرہ شائع کریں

0تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں (0)

#buttons=(Accept !) #days=(20)

Our website uses cookies to enhance your experience. Check Now
Accept !