محافظ ـــ حکایت شیخ سعدی شیرازی
محافظ ہمیشہ وہ نہیں ہوتا جو تلوار لیے کھڑا ہو، اصل محافظ وہ ہے جو برائی کو دل کے دروازے تک آنے نہ دے۔ جو انسان اپنے نفس کی نگرانی کر لے، وہ ہر خطرے سے محفوظ ہو جاتا ہے۔
سبق یہ ہے کہ بیرونی حفاظت محدود ہوتی ہے، اندرونی حفاظت دائمی۔ صوفیا کہتے ہیں: جس کا نگہبان ضمیر ہو، اسے کسی پہرے کی حاجت نہیں—کیونکہ دل محفوظ ہو تو زندگی خود بخود محفوظ ہو جاتی ہے۔
مکمل واقعہ ویڈیو میں موجود ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔👇۔